حدیث نمبر: 35592
٣٥٥٩٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن سيرين أن أمة أحرزها العدو فاشتراها رجل فخاصمه سيدها إلى شريح فقال: المسلم أحق من رد على أخيه بالثمن، فقال: إنها ولدت من سيدها، قال: أعتقها قضاء (الأمير) (١)، فإن كانت كذا وكذا، وإن كانت كذا وكذا، قال: يقول: (الرجل لهو) (٢) أعلم بالقضاء من زيد بن خلدة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک شخص کی باندی کو دشمن پکڑ کرلے گئے، اس کو ایک شخص نے خرید لیا۔ اس کا آقا جھگڑا لے کر حضرت شریح کے پاس آگیا، حضرت شریح نے فرمایا : مسلمان اس کا زیادہ حقدار ہے جو اس کے بھائی کو ثمن کے ساتھ واپس کیا جائے، کہا گیا کہ اس نے اپنے آقا سے بچہ جنا ہے۔ حضرت شریح نے فرمایا : اس کو آزاد کردو یہ امیر کا فیصلہ ہے، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی اس شخص نے کیا یہ زید بن خلدہ سے زیادہ قضاء کو جانتے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ]: (الأمر).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (رجل له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35592
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35592، ترقيم محمد عوامة 34040)