حدیث نمبر: 35588
٣٥٥٨٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن ثور عن (أبي) (١) عون عن زهرة بن يزيد المرادي أن أمة لرجل من المسلمين أبقت ولحقت بالعدو فغنمها المسلمون فعرفها أهلها، فكتب فيها أبو عبيدة إلى عمر فكتب عمر: إن كانت الأمة لم تخمس (و) (٢) لم تقسم فهي رد على أهلها، وإن كانت قد خمست وقسمت (فأمضها) (٣) (٤) لسبيلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زھرہ ابن یزید المرادی سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص کی لونڈی تھی، وہ بھاگ کر دشمن کے ساتھ مل گئی (پھر کچھ عرصہ بعد) مسلمانوں کے ہاتھ مال غنیمت آیا تو باندی کے مالک نے اس کو پہچان لیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر دریافت فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا : اگر باندی کا خمس نہیں نکالا گیا اور اس کو تقسیم نہیں کیا گیا، تو پھر وہ مالک کو واپس کردی جائے گی، اور اگر خمس نکال لیا گیا ہے اور غنیمت تقسیم ہوچکی ہے تو پھر اس کو اسی راستہ پر برقرار رکھو۔ (جس کو مل گئی ہے اس کے پاس رہے گی) ۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (ابن).
(٢) سقط من: [أ، جـ].
(٣) في [أ]: (فأبغها).
(٤) في [جـ]: زيادة (إلى).
(٥) مجهول؛ لجهالة زهرة بن يزيد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35588
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35588، ترقيم محمد عوامة 34036)