مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الطعام والعلف يؤخذ منه الشيء في أرض العدو باب: دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
حدیث نمبر: 35570
٣٥٥٧٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء في القوم يكونون غزاة، (فيكونون) (١) في السرية فيصيبون (أنحاء) (٢) السمن والعسل والطعام قال: يأكلون وما بقي (ردوه) (٣) إلى إمامهم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک قوم جنگ میں شریک ہوئی، اور وہ ایک سریہ میں شریک ہوئی ہے اور وہاں گھی، شہد اور کھانے کے برتن (تھیلے) ان کو ملتے ہیں تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا : وہ اس میں سے کھائیں گے اور جو باقی بچ جائے وہ اپنے امام کے سپرد کردیں گے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (يكونون).
(٢) في [ب]: (ألحا).
(٣) في [أ، ب]: (يردوه).