حدیث نمبر: 35564
٣٥٥٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن خالد بن (الدريك) (١) عن ابن محيريز عن فضالة بن عبيد الأنصاري قال: إن قوما يريدون أن (يستزلوني) (٢) عن ديني، أما واللَّه إني لأرجو أن أموت وأنا عليه، ما كان من شيء (٣) بذهب أو فضة ففيه خمس اللَّه وسهام المسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک یہ قوم ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتی ہے خدا کی قسم میری خواہش ہے کہ میری موت اس حال میں آئے کہ میں اسی دین پر قائم رہوں جو بھی اس میں سے سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ لازم ہے۔

حواشی
(١) في [ب]: (دربك).
(٢) في [أ، ب]: (يستنزلوني).
(٣) أي: بيع.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35564
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر: الأثر قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35564، ترقيم محمد عوامة 34013)