مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الطعام والعلف يؤخذ منه الشيء في أرض العدو باب: دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
حدیث نمبر: 35563
٣٥٥٦٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن أسيد بن (عبد الرحمن) (١) عن خالد بن (دريك) (٢) عن عبد اللَّه بن محير (يز) (٣) قال: سئل فضالة بن عبيد (صاحب) (٤) رسول اللَّه ﷺ عن بيع الطعام والعلف في أرض الروم، (فقال) (٥) فضالة: إن أقواما يريدون أن (يستزلوني) (٦) عن ديني، واللَّه (إني) (٧) لأرجو أن لا يكون ذلك حتى ألقى محمدًا ﷺ، من باع طعامًا بذهب (أ) (٨) وفضة وجب فيه خمس اللَّه ⦗٤٣٦⦘ وسهام المسلمين (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی رسول ﷺ ہیں ان سے روم کی زمین پر موجود دشمن کے کھانے اور چارہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ حضرت فضالہ نے فرمایا : بیشک یہ لوگ ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتے تھے، اور خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں اس طرح نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم شہید ہو کر محمد ﷺ سے ملاقات کرلیں، جو شخص کھانے کو سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے تو اس میں خمس واجب ہے اور مسلمانوں کا حصہ بھی ضروری ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [هـ]: (الدريك).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، هـ]: (حاجب).
(٥) في [هـ]: (قال).
(٦) في [أ، ب]: (يستنزلوني).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [ب].