مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الطعام والعلف يؤخذ منه الشيء في أرض العدو باب: دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
٣٥٥٦٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن (أسيد) (١) بن (عبد الرحمن) (٢) ⦗٤٣٥⦘ الخثعمي عن (مقبل) (٣) بن عبد اللَّه (عن) (٤) هانئ بن كلثوم الكناني قال: كنت (صاحب) (٥) الجيش الذي فتح الشام فكتبت إلى عمر: إنا فتحنا أرضًا كثيرة الطعام والعلف، فكرهت أن أتقدم إلى شيء من ذلك إلا بأمرك وإذنك، فاكتب إلي بأمرك في ذلك، فكتب إليّ عمر: أن دع الناس يأكلون ويعلفون، فمن باع شيئًا بذهب أو فضة فقد وجب فيه خمس اللَّه وسهام المسلمين (٦).حضرت ھانی بن کلثوم الکنانی فرماتے ہیں کہ جس لشکر نے ملک شام فتح کیا میں اس لشکر کا امیر تھا، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ ہم نے ایک ملک فتح کیا ہے اس میں کھانے پینے اور چارہ کی کثرت ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ آپ کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی چیز کی طرف پہل کروں، تو آپ اپنی رائے لکھ کر ہمیں آگاہ کردیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھ کر ارسال کیا کہ لوگوں کو اجازت دے دو کہ وہ کھائیں اور جانوروں کو چارہ کھلائیں، اور جو شخص سونے یا چاندی کے بدلے کچھ فروخت کرے تو اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ بھی ہے۔