مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
قوله: ﴿يسألونك عن الأنفال﴾ ما ذكر فيها؟ باب: ارشاد خداوندی (یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے
حدیث نمبر: 35504
٣٥٥٠٤ - حدثنا يحيى بن آدم عن زهير عن الحسن بن الحر عن الحكم عن عمرو ابن شعيب عن أبيه (عن جده) (١) أن رسول اللَّه ﷺ كان ينفل قبل أن تنزل ⦗٤٢١⦘ فريضة الخمس في المغنم فلما نزلت: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [الأنفال: ٤١]، ترك النفل الذي (كان) (٢) ينفل وصار في ذلك خمس الخمس وهو سهم اللَّه وسهم النبي ﷺ (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ غنیمت میں خمس کا حکم نازل ہونے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عطیہ (کچھ حصہ) الگ فرما لیتے پھر جب قرآن کریم کی آیت { مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } نازل ہوئی زائد دیا جانے والا حصہ ختم کردیا گیا اور وہ خمس کے خمس میں ہوگیا۔ وہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا حصہ ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [ط، هـ].