مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من كان لا يقتل الأسير وكره ذلك باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 35490
٣٥٤٩٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن (خليد) (١) بن جعفر عن الحسن أن الحجاج أتي بأسير فقال لعبد اللَّه بن عمر: قم فاقتله، فقال ابن عمر: (ما بهذا) (٢) أمرنا، يقول اللَّه: ﴿حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً﴾ (٣) [محمد: ٤].مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ حجاج کے پاس قیدی لایا گیا حجاج نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کھڑے ہوجاؤ اور اس کو قتل کردو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ہمیں کس چیز کا حکم دیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : { حَتَّی إِذَا أَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً }۔
حواشی
(١) في [هـ]: (خالد).
(٢) في [أ، ب]: (ما هذا).