مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من كره الفداء بالدراهم وغيرها باب: جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 35479
٣٥٤٧٩ - حدثنا ابن فضيل عن حبيب بن أبي عمرة عن مجاهد قال: استشار رسول اللَّه ﷺ في الأسارى يوم بدر، فقال أبو بكر: قومك -يا رسول اللَّه- وعشيرتك (و) (١) بنو عمك فخذ منهم الفدية، وقال عمر: (اقتلهم) (٢)، فنزلت: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ (٣) [الأنفال: ٦٧].مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ طلب کیا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ یہ آپ کی قوم اور آپ کے رشتہ دار ہیں، ان سے فدیہ لے کر آزاد کردیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا، ان سب کو قتل کردیں، پھر اس کے بارے میں قرآن کریم کی آیت { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } حضرت مجاہد فرماتے ہیں الا ثخان سے مراد قتل ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [ب]: (أقبلهم).