مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في النساء والصبيان: هل لهم من الغنيمة شيء؟ باب: کیا خواتین اور بچوں کے لیے غنیمت میں حصہ ہے؟
٣٥٤٣٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد ابن علي عن يزيد بن (هرمز) (١) قال: كتب نجدة إلى ابن عباس يسأله عن النساء: هل كن يحضرن الحرب مع رسول اللَّه ﷺ؟ وهل يضرب (لهن) (٢) بسهم؟ قال: فقال يزيد: أنا كتبت كتاب ابن عباس بيدي إلى نجدة: كتبت تسألني عن النساء هل كن يحضرن مع رسول اللَّه ﷺ الحرب؟ وهل كان يضرب لهن بسهم؟ وقد كن يحضرن مع رسول اللَّه ﷺ، فأما أن يضرب لهن بسهم فلا، وقد كان يرضخ لهن (٣).حضرت یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا اور عورتوں کے متعلق دریافت کیا کہ کیا خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتی تھیں، کیا ان کو غنیمت میں سے حصہ ملتا تھا ؟ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ میں نے نجدہ کی طرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف سے خط لکھا کہ آپ نے مجھ سے یہ دریافت کیا ہے کہ : کیا خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتی تھیں ؟ اور کیا ان کیلئے غنیمت میں حصہ تھا ؟ بہر حال وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتی تھیں، اور ان کو الگ حصہ نہ دیا جاتا، اور ان کو کچھ اسی میں سے دیا جاتا تھا۔