مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في البراذين: ما لها؟ وكيف يقسم لها؟ باب: ترکی النسل گھوڑے کیلئے کتنا حصہ مقرر ہے؟
٣٥٤٠١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عمرو بن ميمون قال: (كتب) (١) (جعونة) (٢) بن الحارث وكان يلي ثغر ملطيه إلى عمر بن عبد العزيز أن رجالًا يغزون بخيل ضعاف: جذع أو ثني، وليس فيها رد عن المسلمين ويغزو الرجل بالبرذون القوي الذي ليس دون الفرس إلا (أنه) (٣) يقال: برذون فما يرى أمير المؤمنين فيها؟ فكتب إليه عمر بن عبد العزيز: أن انظر ما كان من تلك الخيل الضعاف التي ليس فيها رد عن المسلمين فأعلم أصحابها أنك غير مسهمها، انطلقوا بها أم (تركوا) (٤) وما كان من تلك البراذين رائع الجري والمنظر فأسهمه إسهامك للخيل العراب.حضرت عمرو بن میمون سے مروی ہے کہ حضرت جعونہ بن حارث رضی اللہ عنہ جب ملطیہ کے سر حد کے پاس تھے تو انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ لوگ مختلف گھوڑوں پر جہاد کرتے ہیں، کوئی جذع پر کوئی ثنی پر ہوتا ہے، اس میں مسلمانوں سے رد کرنا نہیں ہے، اور کوئی برذون گھوڑے پر جہاد کرتا ہے جو دوسرے گھوڑوں سے کم نہیں ہے یہاں تک کہ اس کو برذون کہا جاتا ہے، اے امیر المومنین آپ کی اس میں کیا رائے ہے ؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جواب تحریر فرمایا : مختلف النسل جو گھوڑے ہیں جن کو مسلمانوں سے رد نہیں کیا جاتا ان کے سواروں کو بتادو کہ ان کے لیے (الگ کوئی) حصہ نہیں ہے۔ ان کو لے کر جاؤ چھوڑ دو ، اور ترکی النسل جو گھوڑے ہیں جو دیکھنے میں خوشنما ہیں ان کو وہی حصہ دو جو عربی النسل گھوڑوں کے لیے ہے۔