مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في قتال العدو: أي ساعة (يستحب) باب: دشمن سے لڑائی کرنے کا بیان کہ کس وقت قتال کرنا مستحب ہے
٣٥٢٩١ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: (ثنا) (١) أبو حيان عن شيخ من أهل المدينة قال: كان بيني وبين كاتب (عبيد اللَّه) (٢) (صداقة) (٣) ومعرفة، فكتبت إليه أن ينسخ لي رسالة عبد اللَّه بن أبي أوفى فقال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تسألوا لقاء العدو، وإذا لقيتموهم فاصبروا، واعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف"، وكانت تنتظر، فإذا زالت الشمس نهد إلى عدوه (٤).حضرت ابو حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے ایک شیخ نے فرمایا : کہ میرے اور حضرت عبید اللہ کے کاتب کے درمیان دوستی اور جان پہچان تھی۔ میں نے اس کی طرف خط لکھا کہ وہ مجھے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کا وہ خط لکھ دے جس میں انہوں نے فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم دشمن سے ملاقات کا سوال مت کرو ۔ اور جب تمہاری دشمن سے ملاقات ہوجائے تو صبر کرو، اور جان لو کہ بیشک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتظار فرماتے تھے ۔ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر حملہ فرما دیتے ۔