مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في دعاء المشركين قبل أن يقاتلوا باب: قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
٣٥٢٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا بعث أميرا على سرية أو جيش أوصاه في خاصة نفسه بتقوى اللَّه و (بمن) (١) معه من المسلمين خيرًا، وقال: "اغزوا باسم اللَّه في سبيل اللَّه، (تقاتلون) (٢) من كفر باللَّه، اغزوا فلا تغلوا ولا (تغدروا) (٣) ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا، وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال أو خلال، فأيتهن ما أجابوك فاقبل منهم، وكف عنهم، ثم ادعهم إلى الإسلام فإن أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين وأعلمهم أنهم إذا فعلوا ذلك أن لهم ما للمهاجرين وأن عليهم ما على المهاجرين، فإن أبوا واختاروا ديارهم، فأعلمهم أنهم يكونون كأعراب المسلمين، يجري عليهم حكم اللَّه الذي يجري على المؤمنين، ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة نصيب إلا أن يغزوا مع المسلمين، فإن أبوا فادعهم إلى إعطاء الجزية، فإن أجابوا فاقبل منهم وكف عنهم، وإن أبوا فاستعن باللَّه، ثم قاتلهم" (٤).حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو جماعت یا لشکر پر امیر مقرر فرماتے تو اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر اللہ کے تقویٰ کی وصیت فرماتے ۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہوتے ان سے بھلائی کا معاملہ کرنے کی وصیت کرتے۔ اور فرماتے : اللہ کے راستہ میں اللہ کا نام لے کر جہاد کرنا۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تم ان کے ساتھ قتال کرنا۔ تم جہاد کرنا پس نہ تو خیانت کرنا اور نہ غداری کا معاملہ کرنا۔ نہ ہی ہاتھ پاؤں کاٹ کر مثلہ بنانا اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔ اور جب تم اپنے دشمن مشرکین سے ملو تو ان کو تین باتوں میں سے کسی ایک کی طرف یا یوں فرمایا کہ ان کو تین باتوں کی طرف دعوت دینا ۔ ان میں سے جو بھی وہ مان لیں اس کو ان کی جانب سے قبول کرلینا ، اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اپنا علاقہ چھوڑ کر مہاجرین کے علاقہ میں منتقل ہونے کی دعوت دینا اور ان کو بتلا دینا کہ بیشک جب وہ ایسا کرلیں گے تو ان کو بھی وہی حقوق ملیں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں ، اور ان پر وہی چیزیں لازم ہیں جو مہاجرین پر لازم ہیں ۔ پس اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی شہر کا انتخاب کریں تو ان کو بتلا دینا کہ وہ لوگ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے ۔ ان پر اللہ کے وہی احکام جاری ہوں گے جو مومنین پر جاری ہوتے ہیں اور ان کا مال فئی اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں اگر وہ اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ان کو جزیہ ادا کرنے کی طرف بلانا۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو تم اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان کے ساتھ قتال کرنے سے رک جانا۔ اور اگر وہ اس کا بھی انکار کردیں تو تم اللہ رب العزت سے مدد طلب کرنا پھر ان سے قتال کرنا۔