مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في المشركين يدعون المسلمين إلى غير ما ينبغي، أيجيبونهم أم لا، ويكرهون عليه؟ باب: ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو؟
حدیث نمبر: 35256
٣٥٢٥٦ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي حيان عن أبيه عن الحارث بن سويد عن عبد اللَّه قال: (ما) (١) من كلام أتكلم به بين يدي (سلطان) (٢) يدرأ عني (به) (٣) ما بين سوط إلى سوطين إلا كنت متكلما به (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کوئی کلام ایسا نہیں ے جو میں کسی بادشاہ کے سامنے کروں اور وہ مجھے اس کے ایک دو کوڑوں سے بچا سکتا تو میں ضرور وہ کلام کروں گا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [ب]: (السلطان).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) مجهول؛ لجهالة والد أبي حيان.