حدیث نمبر: 35225
٣٥٢٢٥ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا مصعب بن سليم الزهري قال: ثنا أنس بن مالك قال: لما بعث أبو موسى على البصرة، كان ممن بعث البراء بن مالك، وكان من (وزرائه) (١)، فكان يقول له: اختر عملا، فقال البراء: ومعطيَّ أنت ما سألتك؟ قال: نعم، قال: أما إني لا أسألك إمارة مصر ولا جباية خراج، ولكن ⦗٣٤١⦘ أعطني قوسي وفرسي ورمحي و (سيفي) (٢) و (ذرني) (٣) إلى الجهاد في سبيل اللَّه، فبعثه على جيش فكان أول من قتل (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمہ اللہ کو بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا گیا تو ان کے ساتھ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا گیا۔ اور یہ ان کے وزیروں میں سے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہان سے فرمایا کرتے تھے ۔ تم بھی کوئی کام اختیار کرلو۔ اس پر حضرت براء رحمہ اللہ نے فرمایا : کیا جو عہدہ میں تم سے مانگوں گا وہ تم مجھے دو گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : بلاشبہ میں تم سے شہر کی نگرانی اور خراج کی وصول یابی کا عہدہ نہیں مانگتا لیکن تم مجھے میری کمان، میرا گھوڑا، میرا نیزہ اور میری تلوار دے دو ، اور مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے چھوڑ دو پس آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو لشکر پر امیر بنا کر بھیج دیا تو یہ شہید ہونے والے سب سے پہلے شخص تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (ورائه).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (وزدني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35225
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معصب بن سليم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35225، ترقيم محمد عوامة 33686)