مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الولاة (تتخذ) البرد فيبرد باب: جن لوگوں نے حکمرانوں کے بارے میں یوں کہا کہ وہ قاصد رکھیں پھر اس کے ذریعہ پیغام بھیجیں
حدیث نمبر: 35217
٣٥٢١٧ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى أن عمر بن عبد العزيز كان يبرد فحمل مولى له رجلًا على البريد بغير إذنه، قال: فدعاه فقال: لا (تبرح) (١) حتى ⦗٣٣٩⦘ (تقومه) (٢) ثم (تجعله) (٣) في بيت المال.مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا کرتے تھے ۔ آپ رحمہ اللہ کے ایک غلام نے ڈاک کی سواری پر ایک شخص کو آپ کی اجازت کے بغیر سوار کردیا۔ آپ رحمہ اللہ نے اس کو بلایا اور فرمایا : تو اس سے جدا مت ہو یہاں تک کہ اس کی قیمت ادا کر، پھر اس کی قیمت بیت المال میں ڈال دے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (تتزوج)، وفي [هـ]: (يتزوج).
(٢) في [هـ]: (نقومه).
(٣) في [هـ]: (نجعله).