مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يحمل على الفرس فيحتاج إليه: أيبيعه؟ باب: اس آدمی کا بیان جس نے گھوڑے پر کسی کو سوار کرنا تھا پس اسے اس کی ضرورت پڑ گئی کیا وہ گھوڑے کو فروخت کر دے؟
٣٥٢١٠ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبي (المنبه) (١) قال: أوصى رجل من أهل اليمامة بفرس في سبيل اللَّه، فقدم ابن عم لي فقلت: أحمل عليه أخي، فإن أخي رجل صالح، قال: حتى أسأل الحسن، فسأل الحسن فقال، احمل عليه رجلا ولا (تحاب) (٢) فيه أحدًا، قال: قلت للحسن: فإن احتاج إليه؟ قال: (فليبعه) (٣) من الجند ولا (تعطه) (٤) هذه الموالي فيتركه أحدهم نفقة لأهله.حضرت ابو المنیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل یمامہ میں سے ایک آدمی نے اللہ کے راستہ میں گھوڑے کی وصیت کی۔ پس میرا چچا زاد آگیا تو میں نے اس شخص سے کہا اس پر میرے بھائی کو سوار کردو۔ اس لیے کہ میرا بھائی نیک آدمی ہے ۔ اس نے کہا : میں حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھ لوں۔ اس نے حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا ؟ انہوں نے فرمایا : اس پر اس آدمی کو سوار کردو اور اس بارے میں تم بالکل پچھتاوا مت کرنا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا : اگر وہ اس کا ضرورت مند ہو ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : کہ اس کو لشکر میں سے کسی کے ہاتھ فروخت کردو۔ اور اس کو ان غلاموں میں سے کسی کو مت دو ۔ ان میں سے کوئی اسے اپنے گھر والوں کے خرچ کے لیے چھوڑ دے گا۔