مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في قسمة ما يفتح من الأرض، وكيف كان؟ باب: زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے ا س کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہو گی
٣٥١٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار عن رجل من أصحاب النبي ﷺ أن النبي ﷺ حين ظهر على خيبر وصارت خيبر لرسول اللَّه ﷺ ⦗٣٢٩⦘ والمسلمين، ضعفوا من عملها، فدفعوها إلى اليهود (يعملونها وينفقون) (١) عليها على أن لهم نصف ما خرج منها، فقسمها رسول اللَّه ﷺ على ستة وثلاثين سهمًا، لكل سهم مائة سهم، فجعل رسول اللَّه ﷺ نصف ذلك كله، فكان في ذلك النصف سهام المسلمين، وسهم رسول اللَّه ﷺ معهم، وجعل النصف الآخر لمن ينزل به من الوفود والأمور ونوائب الناس (٢).حضرت بشیر بن یسار رحمہ اللہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر پر فتح پائی اور خیبرسارے کا سارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ہوگیا تو یہ لوگ اس میں کام کرنے سے تھک گئے تو انہوں نے یہ زمینیں یہود کو دے دیں کہ وہ ان میں کام کریں اور اس پر خرچ کریں اس شرط پر کہ پیدا ہونے والی کھیتی کا آدھا حصہ ان کو ملے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھتیس حصوں میں تقیسم کردیا اس طرح کہ ہر حصہ میں سو حصے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمام کا نصف حصہ مسلمانوں کے لیے خاص کردیا اس طرح کہ اس آدھے میں مسلمانوں کے بھی حصہ تھے اور ان کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا۔ اور دوسرے نصف کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے وفود کے لیے دوسرے معاملات اور لوگوں کے مصائب کے لیے خاص کردیا۔