مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
٣٥١٢٧ - حدثنا (وكيع قال: ثنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: حدثني (عتبة) (٢) بن فرقد السلمي قال: قدمت على عمر بن الخطاب بسلال خبيص عظام مملوءة، لم (أر) (٣) أحسن (٤)، فقال: ما هذه؟ فقلت: طعام أتيتك به، إنك رجل تقضي من حاجات الناس أول النهار، فإذا رجعت أصبت منه قال: اكشف عن سلة منها، قال: فكشفت، قال: عزمت عليك إذا رجعت ⦗٣١٥⦘ ألا رزقت كل رجل من المسلمين منها سلة، قال: قلت: والذي يصلحك يا (أمير) (٥) المؤمنين لو أنفقت مال قيس كله ما بلغ ذلك، قال: فلا حاجة لي فيه، ثم دعا بقصعة فيها ثريد من خبز (خشن) (٦)، ولحم غليظ وهو يأكل معي أكلًا شهيًا، فجعلت أهوي إلى (البضعة) (٧) البيضاء أحسبها سنامًا فألوكها فإذا هي عصبة، وآخذ البضعة من اللحم فأمضغها فلا أكاد أسيغها، فإذا غفل عني جعلتها بين الخوان والقصعة، ثم قال: يا (عتبة) (٨) إنا ننحر كل يوم جزورًا، فأما ودكها وأطائبها فلمن حضر من آفاق المسلمين، وأما عنقها (فإلى) (٩) عمر (١٠).حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن فرقد السلمی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بڑی ٹوکریاں حلوے سے بھری ہوئی لایا۔ میں نے اس سے زیادہ اور مزیدار حلوہ نہیں دیکھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ کھانا میں آپ رضی اللہ عنہ کے لیے لایا ہوں۔ اس لیے کہ آپ رضی اللہ عنہایسے آدمی ہیں جو دن کا ابتدائی حصہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزارتے ہیں اور جب آپ رضی اللہ عنہ لوٹتے ہیں تو آپ اس وجہ سے تھک جاتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹوکری سے کپڑا ہٹاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ہٹا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم جب واپس جاؤ تو مسلمانوں کے تما م آدمیوں کو اس ٹوکری میں سے حصہ دینا۔ میں نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے اے امیرالمؤمنین آپ رضی اللہ عنہ کو درست رکھا ! اگر میں بنو قیس کا سارا مال بھی خرچ کر دوں تو وہ اتنی مقدار کو نہیں پہنچے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں بن چھنے آٹے اور سخت گوشت کی ثرید تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ میرے ساتھ اسے بہت پسند سے کھا رہے تھے۔ میں نے ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا میں اس کو کوہان کا حصہ سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس کو چبایا تو وہ پیٹھے کا حلوہ نکلا۔ میں نے ایک گوشت کا ٹکڑا لیا میں نے اس کو چبایا پس وہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے تھوڑے سے غافل ہوئے تو میں نے اس ٹکڑے کو پیالہ اور دسترخوان کے درمیان رکھ دیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عتبہ ! یقینا ہم ہر روز ایک اونٹ نحر کرتے ہیں۔ اس کی چربی اور اچھا حصہ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو مسلمان دور دراز سے آئے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی گردن عمر کے لیے ہوتی ہے ! ! !