مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
٣٥١٢٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن سفيان عن الأسود بن قيس عن نبيح قال: اشترى ابن عمر بعيرين فألقاهما في إبل الصدقة فسمنا وعظما، وحسنت (هيئتهما) (١) قال: فرآهما عمر فأنكر (هيئتهما) (٢) فقال: لمن هذان؟ (قالوا) (٣): لعبد اللَّه بن عمر فقال: بعهما وخذ رأس مالك، ورد الفضل في بيت المال (٤).حضرت نبی ح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دو اونٹ خریدے اور ان کو صدقہ کے اونٹوں میں چھوڑ دیا پس وہ دونوں خوب صحت مند اور بڑے ہوگئے۔ اور ان دونوں کی حالت بہت اچھی ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں کو دیکھا تو ان کی حالت کو عجیب سمجھا اور پوچھا : یہ دونوں کس کے اونٹ ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان دونوں کو فروخت کرو اور تم اپنی اصل رقم لے لو۔ اور جو زائد رقم ہے وہ بیت المال میں لوٹا دو ۔