مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
٣٥١٢٠ - حدثنا (وكيع عن) (١) الأعمش عن أبي وائل عن مسروق عن عائشة (قالت) (٢): لما مرض أبو بكر مرضه الذي مات فيه قال: انظروا ما زاد في مالي منذ دخلت الإمارة فابعثوا به إلى الخليفة من بعدي، فإني قد كنت (أستحله) (٣) وقد كنت (أصيب) (٤) من الودك نحوا مما كنت (أصيب) (٥) في التجارة، قالت: فلما مات نظرنا فإذا عبد (نوبي) (٦) كان يحمل الصبيان، وإذا (ناضح) (٧) كان (يسني) (٨) عليه، (فبعثنا) (٩) بهما إلى عمر، قالت: فأخبرني (جريي) (١٠) -تعني: وكيلي- أن عمر (بكى) (١١) وقال: رحمة اللَّه على أبي بكر، لقد أتعب من بعده تعبًا شديدًا (١٢).حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے جس بیماری میں آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ دیکھنا کہ میرے خلیفہ بننے کے بعد جو میرے مال میں اضافہ ہوا ہے تم اس مال کو میرے بعد بننے والے خلیفہ کے پاس بھیج دینا۔ تحقیق میں نے اس مال کو اپنے لیے جائز اور حلال سمجھا تھا۔ اور تحقیق مال ودک سے مجھے اتنا ہی نفع ہوا تھا جتنا مجھے تجارت میں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم نے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کے مال میں ایک مصری غلام کا اضافہ تھا جو بچوں کو سنبھالتا تھا اور ایک پانی لانے والا جو کنویں سے آپ رضی اللہ عنہ کے لیے پانی لاتا تھا۔ ان دونوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے میرے وکیل نے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمت ہو۔ تحقیق انہوں نے اپنے بعد والوں کو بہت زیادہ مشقت میں ڈال دیا۔