مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: فيمن يبدأ (به) في الأعطية؟ باب: اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
٣٥١٠٣ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: ثنا القاسم بن معن عن (جعفر) (٢) عن أبيه أن عمر أراد أن يفرض للناس، وكان رأيه خيرا من رأيهم، فقالوا: ابدأ بنفسك، فقال: لا، فبدأ بالأقرب (فالأقرب) (٣) من رسول اللَّه ﷺ، ففرض للعباس ثم علي حتى (والى) (٤) بين خمس قبائل، حتى انتهى إلى بني عدي بن كعب (٥).حضرت جعفر کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے لیے عطیہ مقرر کرنے کا ارادہ فرمایا : اور آپ رضی اللہ عنہ کی رائے ان سب لوگوں کی رائے سے بہتر تھی۔ لوگوں نے کہا : آپ رضی اللہ عنہاپنے آپ سے ابتدا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدا کی ان لوگوں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ میں قریب تھے اور پھر جو ان کے بعد قریب تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا حصہ مقرر فرمایا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے پانچ قبیلوں کے درمیان لگا تار حصہ مقرر فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو عدی تک پہنچے۔