مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الصبيان هل يفرض لهم؟ ومتى يفرض لهم؟ باب: بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا؟
حدیث نمبر: 35096
٣٥٠٩٦ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن هارون بن (عنترة) (٢) عن أبيه قال: شهدت عثمان (يتأنى) (٣) بأعطيات الناس إن قيل له: إن فلانة (تلد) (٤) الليلة، فيقول: كم أنتم انظروا، فإن ولدت غلامًا أو جارية أخرجها مع الناس (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عنترہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس حاضر تھا آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کے عطیات میں توقف کرتے تھے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ سے کہا جاتا : کہ فلاں عورت نے رات کو بچہ پیدا کیا تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے : ذرا ٹھہرو، اس نے بچے کو جنم دیا ہے یا بچی کو، اس کا پتہ جلد چل جائے گا اور خبر معروف ہوجائے گی۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عوام).
(٢) في [ب]: (عفترة).
(٣) في [أ، ب]: (ساتى)، وفي [هـ]: (فيأتي).
(٤) في [هـ]: (تلك).