مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
حدیث نمبر: 34945
٣٤٩٤٥ - (حدثنا) (١) عبد الرحيم بن سليمان عن شيبان النحوي عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان أن رسول اللَّه ﷺ قال في آخر خطبة خطبها: "إن هذه القرية -يعني المدينة- لا يصلح فيها ملتان، فأيما نصراني أسلم ثم تنصر فاضربوا عنقه" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ارشاد فرمایا : بیشک اس بستی میں یعنی مدینہ منورہ میں دو ملتیں نہیں رہ سکتیں۔ پس جو کوئی نصرانی اسلام قبول کرلے پھر وہ دوبارہ نصرانی بن جائے تو تم اس کی گردن مار دو ۔
حواشی
(١) في [ط]: (حدثني).