مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٣٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن عبيد (العامري) (١) عن أبيه قال: كان أناس يأخذون العطاء والرزق ويصلون مع الناس، وكانوا يعبدون الأصنام في السر، فأتي بهم علي بن أبي طالب فوضعهم في المسجد، أو قال: في السجن، ثم قال: يا أيها الناس ما ترون في قوم كانوا يأخذون معكم العطاء والرزق ويعبدون هذه الأصنام؟ قال الناس: اقتلهم، قال: لا، ولكن أصنع بهم كما صنعوا بأبينا إبراهيم، فحرقهم بالنار (٢).حضرت عبید العامری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ تھے جو روزینہ اور عطیات لیتے تھے۔ اور لوگوں کے ساتھ تو نماز پڑھتے اور پوشیدگی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے مسجد میں یا قید خانہ میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے اس قوم کے بارے میں جو تمہارے ساتھ روزینہ اور عطیات لیتے ہیں اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : ان کو قتل کردیا جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! لیکن میں ان کے ساتھ وہ معاملہ کروں گا جو انہوں نے ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو آگ میں جلا ڈالا۔