مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن قيس بن (مسلم) (١) عن طارق بن شهاب قال: جاء وفد بزاخة: أسد وغطفان إلى أبي بكر يسألونه الصلح فخيرهم أبو بكر بين الحرب (المجلية) (٢) أو السلم المخزية، قال: فقالوا: هذا الحرب المجلية قد عرفناها، فما السلم المخزية؟ قال: قال أبو بكر: تؤدون الحلقة والكراع، وتتركون أقواما (يتبعون) (٣) أذناب الإبل حتى يرى اللَّه خليفة نبيه ﷺ والمسلمين أمرا يعذرونكم به، وتدون قتلانا ولا ندي قتلاكم، وقتلانا في الجنة وقتلاكم في النار، وتردون ما أصبتم منا ونغنم ما أصبنا منكم، فقام عمر فقال: قد رأيت رأيًا وسنشير عليك، أما أن يؤدوا الحلقة والكراع فنعم ما رأيت، وأما أن يتركوا أقوامًا يتبعون أذناب الإبل حتى يرى اللَّه خليفة نبيه ﷺ والمسلمين أمرا يعذرونهم به، فنعم ما رأيت، وأما أن نغنم ما أصبنا منهم ويردون ما أصابوا منا فنعم ما رأيت، وأما (٤) قتلاهم في النار وقتلانا في الجنة فنعم ما ⦗٢٥٧⦘ رأيت، وأما أن لا ندي قتلاهم فنعم ما رأيت، وأما أن يدوا قتلانا فلا، قتلانا قتلوا عن أمر اللَّه فلا ديات لهم فتتابع الناس على ذلك (٥).حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسد اور غطفان کے بڑے لوگوں کا وفد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے صلح کا سوال کیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے رسوا کردینے والی صلح یا سخت جنگ کے درمیان اختیار دیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے۔ اس سخت اور صفایا کردینے والی جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا ۔ یہ رسوا کردینے والی صلح کیا ہے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم تمام اسلحہ اور گھوڑے دو گے ، اور تم لوگوں کو چھوڑ دو گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں۔ یعنی جس کی مرضی پیروی کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے خلیفہ اور مسلمانوں کو ایسی بات دکھا دیں جس کی وجہ سے وہ تم لوگوں کو معذور سمجھیں اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے۔ اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں۔ اور جو چیز تم نے ہماری لی ہے وہ تم واپس لوٹاؤ گے اور ہم نے جو تمہارا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : تحقیق یہ آپ کی رائے ہے۔ اور عنقریب ہم آپ کو ایک مشورہ دیں گے۔ بہرحال وہ اسلحہ اور گھوڑے دیں گے تو یہ بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے خلیفہ اور مسلمانوں کو کوئی ایسی بات دکھلا دے جس کی وجہ سے وہ ان کو معذور سمجھیں یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور ہم نے جو ان کا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اور انہوں نے جو ہمارا مال لیا وہ ہمیں واپس لوٹائیں گے ۔ تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ان کے مقتولین جہنم میں ہیں اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ہم ان کے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ ہمارے مقتولین کی دیت ادا کریں گے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ہمارے مقتولین اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں قتل کیے گئے تو ان کے لیے کوئی دیتیں نہیں ہوں گی۔ تو لوگوں نے اس بات پر ان کی موافقت کی۔