مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الخمس والخراج كيف يوضع باب: خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا؟
٣٤٩٠٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي عون محمد بن عبيد اللَّه الثقفي قال: وضع عمر بن الخطاب على السواد على كل جريب أرض يبلغه الماء عامر أو غامر درهما وقفيزا من طعام، (وعلى البساتين على كل جريب عشرة دراهم وعشرة أقفزة من طعام، وعلى الرطاب على) (١) كل جريب أرض خمسة دراهم وخمسة أقفزة من طعام، وعلى الكروم على كل جريب أرض عشرة دراهم وعشرة أقفزة، ولم يضع على النخل شيئا جعله تبعا للأرض (٢).حضرت ابو عون محمد بن عبد اللہ الثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سواد والوں پر ہر کھیتی میں جس کی زمین پانی سے سیراب ہوتی ہو چاہے آباد ہو یا غیر آباد ایک درہم اور کھانے کا ایک قفیز مقرر فرمایا : اور باغات کی تمام کھیتیوں پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے۔ اور سبزیوں کی تمام کھیتیوں پر پانچ درہم اور کھانے کے پانچ قفیز مقرر فرمائے۔ اور انگور کی مکمل کھیتی پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے اور کھجور کی کھیتی پر کچھ مقرر نہیں فرمایا۔ اسے زمین کے تابع قرار دیا۔