حدیث نمبر: 34886
٣٤٨٨٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا عمرو بن الضريس الأسدي قال: سألت الشعبي قال: قلت إنا نغزو أرض أرمينية أرض نصرانية فما ترى في ذبائحهم وطعامهم؟ قال: كنا إذا غزونا أرضا سألنا عن أهلها، فإذا قالوا: يهود أو نصارى أكلنا من ذبائحهم (وطعامهم) (١) وطبخنا في آنيتهم.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر و بن ضریس اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا : کہ ہم لوگ آرمینیہ میں جہاد کرنے جا رہے ہیں جو کہ عیسائیوں کا علاقہ ہے ۔ آپ رحمہ اللہ کی ان کے ذبیحوں اور کھانے کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جب ہم کسی جگہ میں جہاد کرتے تھے تو ہم وہاں کے لوگوں کے متعلق پوچھ لیا کرتے تھے۔ اگر وہ کہتے : ہم یہود ہیں یا عیسائی ہیں۔ تو ہم ان کا ذبیحہ اور کھانا کھالیتے تھے، اور ہم ان کے برتنوں میں پکا لیتے تھے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ح، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34886
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34886، ترقيم محمد عوامة 33364)