مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في المجوس (أيفرق) بينهم وبين المحرم منهم باب: جن لوگوں نے مجوس کے بارے میں یوں کہا کہ ان کے اور ان کے محرم کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟
٣٤٨٤٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن أبي هند عن (قشير) (١) بن عمرو عن بجالة بن عبدة (العنبري) (٢) (قال) (٣): وكان كاتبا (لجزء) (٤) بن معاوية، وكان على طائفة الأهواز، فحدث أن أبا موسى وهو أمير البصرة كتب إلينا أن عمر ابن الخطاب كتب إليه يأمره بقتل الزمازمة حتى يتكلموا، وأن تنزع كل امرأة من حريمها، وأن يقتل كل ساحر، فكتب بهذا أبو موسى إلى جزء بن معاوية فدعا ⦗٢٣٩⦘ الزمازمة فتكلموا، قال: وكنا إذا كانت المرأة شابة نزعناها من حريمها وانكحناها آخر، وإذا كانت عجوزًا نهينا عنها وزجرنا عنها (٥).حضرت بجالہ بن عبدۃ العنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جزء بن معاویہ رحمہ اللہ کا کاتب تھا اور آپ رحمہ اللہ اھواز کے لوگوں پر امیر مقرر تھے۔ اس دوران حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ جو کہ بصرہ کے امیر تھے انہوں نے ہماری طرف خط لکھا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھ کر حکم دیا ہے کہ وہ کھانے کے درمیان منہ بند کر کے آواز نکالنے والے مجوسیوں کو قتل کردیں یہاں تک کہ وہ کلام کریں۔ اور ہر عورت کو اس کے محرم سے چھین لیا جائے اور ہر جادوگر کو قتل کردیا جائے۔ تو حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ نے یہ خط حضرت جزء بن معاویہ کو بھی لکھ بھیجا۔ تو آپ رحمہ اللہ نے زمازمہ کو بلایا ، پس انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی۔ اور راوی کہتے ہیں جب کوئی عورت جوان ہوجاتی تو ہم اس کے محرم سے اس کو چھین لیتے اور کسی دوسرے سے اس کا نکاح کروا دیتے۔ اور اگر عورت بوڑھی ہوتی تو ہم اس کو روک دیتے اور اس پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے۔