مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في وضع الجزية والقتال عليها باب: جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
٣٤٨٢٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن أسلم مولى عمر أن عمر كتب إلى عماله: لا تضربوا الجزية على النساء والصبيان، ولا تضربوها إلا على من جرت (عليه الموسى) (١)، ويختم في أعناقهم، (ويجعل) (٢) جزيتهم على رؤوسهم: على أهل الورق أربعين درهمًا، ومع ذلك أرزاق المسلمين، وعلى أهل الذهب أربعة دنانير، وعلى أهل الشام منهم مدي حنطة وثلاثة أقساط (زيت) (٣)، وعلى أهل مصر إردب حنطة وكسوة وعسل -لا يحفظ (نافع) (٤) كم ذلك- وعلى أهل العراق خمسة عشر صاعا حنطة (٥).حضرت اسلم رحمہ اللہ جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام گورنروں کو خط لکھا : کہ عورتوں اور بچوں سے جزیہ وصول نہ کرو، اور نہ وصول کرو مگر بالغ شخص سے، اور ان کی گردنوں پر مہر لگا دو ۔ اور جزیہ ان لوگوں کے پیشہ کے اعتبار سے مقرر کرو۔ چاندی والوں پر چالیس درہم لازم ہیں ۔ اور اس کے ساتھ مسلمانوں کی تنخواہیں بھی۔ اور سونے والوں پر چار دینار لازم ہیں۔ اور شام والوں پر دو مد گندم ، اور تین قسط دو من زیتون، اور مصر والوں پر چوبیس صاع گندم، کپڑوں کے جوڑے ، اور شہد… حضرت نافع رحمہ اللہ ان کی مقدار محفوظ نہ رکھ سکے کہ مقدار کتنی مقرر فرمائی۔ اور عراق والوں پر پندرہ صاع گندم : راوی کہتے ہیں : حضرت عبید اللہ نے جوڑے بھی ذکر فرمائے اور میں اس کو یاد نہ رکھ سکا۔