مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما يستحب من الخيل وما يكره منها باب: پسندیدہ اور ناپسندیدہ گھوڑوں کا بیان
حدیث نمبر: 34755
٣٤٧٥٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا موسى بن عليٌّ قال: سمعت أبي يحدث أن رجلًا أتى رسول اللَّه ﷺ، فقال: إني أريد إن أقيد فرسا أو أبتاع فرسًا، قال: فقال: "فعليك به (أقرح) (١) (أرثم) (٢) كميتا أو أدهم محجلا طلق (اليمنى) (٣) " (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : میں چاہتا ہوں کہ میں گھوڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈالوں یا کہا کہ میں گھوڑا خریدنا چاہتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بارے میں تم پر لازم ہے وہ گھوڑا جس کے چہرے میں سفیدی ہو اور اس کی ناک اور اوپر والا ہونٹ بھی سفید ہو اور کتھئی رنگ کا ہو یا ایسا گھوڑا جو سیاہ وسفید رنگ کا ہو اور اس کا دایاں بالکل صاف ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (أقدح).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (أرقم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (اليمين).