٣٤٧٣٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا جعفر بن برقان عن حبيب بن أبي (مرزوق) (١) عن ميمون عن رجل من عبد القيس قال: رأيت سلمان على حمار في سرية هو أميرها، (وخدمتاه) (٢) (تذبذبان) (٣) والجند يقولون: جاء الأمير جاء الأمير، (قال) (٤): فقال سلمان: إنما الخير والشر فيما بعد اليوم، فإن استطعت أن تأكل من التراب ولا تأمر على رجلين فافعل، واتق دعوة المظلوم فإنها لا تحجب (٥).ایک آدمی جن کا تعلق قبیلہ عبد القیس سے ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو گدھے پر دیکھا ایک لشکر میں جس کے وہ امیر تھے ۔ اور ان کی دونوں پنڈلیاں کانپ رہی تھیں اور لشکر والے کہہ رہے تھے۔ امیرآ گئے ! امیر آگئے ! اس پر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک اس بارے میں برائی اور بھلائی کا فیصلہ تو آج کے دن کے بعد ہوگا۔ اور فرمایا : اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ مٹی کھالو اور دو آدمیوں پر امیر نہ بنو تو ایسا کرلو۔ اور مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے لیے کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہوتی۔