٣٤٧٢٩ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا فضيل بن غزوان عن محمد (الراسبي) (١) عن بشر بن عاصم قال: كتب عمر بن الخطاب عهده فقال: لا حاجة لي فيه، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن الولاة يجاء بهم يوم القيامة فيقفون على شفير جهنم، فمن كان (مطواعا) (٢) للَّه تناوله اللَّه بيمينه حتى ينجيه، ومن عصى اللَّه انخرق به الجسر إلى واد من نار (تلتهب) (٣) التهابًا"، قال: قال رسول اللَّه ﷺ، فأرسل عمر إلى أبي ذر وإلى سلمان، فقال لأبي ذر: أنت سمعت هذا الحديث من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم واللَّه، وبعد الوادي واد آخر من نار، قال: وسأل سلمان فكره أن يخبر بشيء، فقال عمر: من يأخذها بما فيها، فقال أبو ذر: من (سلت) (٤) ⦗٢١٢⦘ اللَّه أنفه وعينيه وأصدع خده إلى الأرض (٥).حضرت بشر بن عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک عہدہ سپرد کرنا چاہا۔ تو انہوں نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ عہدیداران سلطنت کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان کو جہنم کے کنارے پر کھڑا کردیا جائے گا۔ پس ان میں سے جو اللہ کا فرمانبردار ہوگا تو اللہ اس کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑ لیں گے یہاں تک کہ اس کہ جہنم سے نجات دیں گے ، اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی ہوگی تو جہنم کا پُل اس کو وادی میں پھینکے گا جہاں آگ اس کو لپیٹ لے گی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا۔ اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں۔ اللہ کی قسم ! اور فرمایا : اس وادی کے بعد جہنم کی ایک اور وادی ہوگی۔ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا : تو انہوں نے اس بارے میں کچھ بھی بتانا ناپسند کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب اس بارے میں ایسی بات ہے تو اس کو کون شخص لے گا ؟ تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس شخص کے اللہ ناک اور آنکھ کاٹے اور جس کو ذلیل کرنا چاہے۔