٣٤٧٢٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد (عن عامر) (١) عن مسروق عن عبد اللَّه بن مسعود قال: ما من حكم يحكم بين الناس إلا حشر يوم القيامة وملك آخذ بقفاه حتى يقف به على (٢) جهنم ثم يرفع رأسه إلى الرحمن، فإن قال: اطرحه، طرحه في مهوى أربعين خريفا (٣).حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوئی فیصلہ کرنے والا لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کا ایسا حشر کیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اس کو گردن سے پکڑے گا یہاں تک کہ اس کو جہنم کے کنارے لا کر کھڑا کر دے گا۔ پھر اپنا سر رحمن کی طرف اٹھائے گا۔ اگر رحمن اس کو کہہ دے اس کو جہنم میں ڈال دو ۔ تو وہ اس کو چالیس سال کی مسافت کے برابر جہنم کی گہرائی میں ڈال دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک ایک دن عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں ایک سال جہاد کروں۔