مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما جاء في أسامة وأبيه ﵄ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کے بارے میں آئی ہیں
٣٤٤٨٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ كان قطع بعثا قبل موتة وأمر عليهم أسامة بن زيد، وفي ذلك البعث أبو بكر وعمر قال: فكان (أناسا) (١) من الناس طعنوا في ذلك لتأمير رسول اللَّه ﷺ أسامة عليهم، فقام رسول اللَّه ﷺ فخطب الناس فقال: "إن أناسا منكم قد طعنوا عليَّ في تأمير أسامة، وإنما طعنوا في تأمير أسامة كما طعنوا في تأمير أبيه، وأيم اللَّه إن كان لخليقًا للإمارة، وإن كان لمن أحب الناس إلي، وإن ابنه لأحب الناس إلي من بعده، وإني لأرجو أن يكون من صالحيكم، فاستوصوا به خيرا" (٢).حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی جانب بھیجنے کے لیے لشکر تیار کیا اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر بنادیا حالانکہ اس لشکر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس گویا لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسامہ کو لشکر پر امیر بنانے پر ناگواری کا اظہار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : بیشک تم میں سے کچھ لوگوں نے مجھ سے ناگواری کا اظہار کیا ہے اسامہ کو امیر بنانے پر۔ اور بیشک انہوں نے اسامہ کو امیر بنانے سے پہلے اس کے باپ کو امیر بنائے جانے پر بھی ناگواری کا اظہار کیا تھا۔ اور اللہ کی قسم ! وہ امارت کے زیادہ قابل تھے۔ اور بیشک وہ بھی لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے۔ اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اور بیشک میں امید کرتا ہوں۔ کہ یہ تمہارے نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ پس تم لوگ اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو۔