حدیث نمبر: 34371
٣٤٣٧١ - حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن عامر قال: لما قدم جعفر من أرض الحبش لقي عمر بن الخطاب أسماء بنت عميس فقال لها: سبقناكم بالهجرة ونحن أفضل منكم، فقالت: لا أرجع حتى آتي رسول اللَّه ﷺ، فدخلت عليه فقالت: يا رسول اللَّه لقيت عمر فزعم أنه أفضل منا وأنهم سبقونا بالهجرة، فقال نبي اللَّه ﷺ: "بل أنتم هاجرتم مرتين" (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملے اور ان سے فرمایا : ہم لوگ ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے اور ہم تم سے افضل ہیں۔ تو وہ کہنے لگیں۔ میں واپس نہیں لوٹوں گی یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤں۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر داخل ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملی تو انہوں نے کہا : کہ یقینا وہ ہم سے افضل ہیں۔ اور بیشک وہ ہم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں ! اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ تم لوگوں نے دو مرتبہ ہجرت کی۔ اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سعید بن ابی بردہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا : اس دن حضرت اسمائ رضی اللہ عنہ نے حضرت سے یوں فرمایا : ایسی بات نہیں۔ ہم لوگ تو دشمنوں اور نسب سے دور لوگوں کی زمین میں تھے ۔ اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جو تمہارے جاہلوں کو نصیحت فرما دیتے اور تم میں سے بھوکوں کو کھانا کھلا دیتے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34371
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٨/ ٢٨١، وورد من حديث الشعبي عن أسماء، أخرجه الطبراني ٢٤/ (٣٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34371، ترقيم محمد عوامة 32862)