مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٦٥ - حدثنا شريك عن أبي (إسحاق) (١) عن عاصم بن ضمرة قال: خطب الحسن بن علي حين قتل علي فقال: يا أهل الكوفة، أو يا أهل العراق، لقد كان بين أظهركم رجل قتل الليلة أو أصيب اليوم لم يسبقه الأولون بعلم، (ولا يدركه الآخرون) (٢)، كان النبي ﷺ إذا بعثه في سرية كان جبريل عن يمينه وميكائيل عن يساره، فلا يرجع حتى يفتح اللَّه عليه (٣).حضرت عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا : اے کوفہ والو یا یوں فرمایا : اے عراق والو ! تحقیق تمہارے سامنے ایک آدمی تھا جس کو رات کو شہید کردیا گیا یا یوں فرمایا : کہ جو آج فوت ہوگیا۔ پہلے لوگ اس سے علم میں نہیں بڑھے اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کے علم کو پاسکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو کسی لشکر میں بھیجتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اس کی دائیں طرف ہوتے تھے اور حضرت میکائیل اس کی بائیں طرف ہوتے۔ پس وہ شخص واپس نہیں لوٹتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو فتح عطا فرما دیتے۔