حدیث نمبر: 34221
٣٤٢٢١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة عن مسروق عن عائشة قال: قالت حين قتل عثمان: تركتموه كالثوب النقي من الدنس ثم قربتموه فذبحتموه كما يذبح الكبش، (إنما) (١) كان هذا قبل هذا، قال: فقال لها مسروق: (هذا عملك) (٢) أنت كتبت إلى أناس تأمرينهم بالخروج، قال: فقالت عائشة: لا والذي آمن به المؤمنون وكفر به الكافرون، ما كتبت إليهم (بسوداء) (٣) في بيضاء حتى جلست مجلسي هذا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا گیا تو اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے اس کو چھو ڑ دیا ہے جیسا کہ گندگی صاف کپڑے کو چھوڑ دیتی ہے۔ پھر تم نے ان کو قریب کر کے ذبح کردیا جیسا کہ کسی مینڈھے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے کیوں نہیں ہوئی ؟ تو حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا : یہ تو آپ رضی اللہ عنہ کے عمل کی وجہ سے ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ ہی نے لوگوں کو خط لکھ کر ان کو خروج کا حکم دیا ! راوی کہتے ہیں : کہ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس پر تمام مومن ایمان لائے اور کافروں نے جس کے ساتھ کفر کیا۔ میں نے کسی سفیدی پر سیاہی سے نہیں لکھا یہاں تک کہ میں اپنی اس جگہ پر بیٹھ گئی۔ امام اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں : پس ان لوگوں کی رائے یہی تھی کہ یہ سب ان کی زبان پر لکھ دیا گیا تھا۔

حواشی
(١) كذا في النسخ، وفي أخبار المدينة (٢١٥٥): (ألا)، وفي طبقات ابن سعد ٣/ ٨٢: (هلا)، وفي الاعتقاد للالكائي (٢٥٧٩): (فهلا).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (سوداء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34221
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34221، ترقيم محمد عوامة 32714)