مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤٢٠٦ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل أخبرنا قيس قال: أخبرنا أبو سهلة مولى عثمان قال: قال رسول اللَّه ﷺ في مرضه: "وددت أن عندي بعض أصحابي"، فقالت عائشة: أدعو لك أبا بكر؟ (قالت) (١): فسكت، فعرفت أنه لا يريده، فقلت: أدعو لك عمر؟ فسكت، فعرفت أنه لا يريده، قلت: فأدعو لك ⦗٤٣⦘ عليًا؟ فسكت، فعرفت أنه لا يريده، قلت: فأدعو لك عثمان بن عفان؟ قال: "نعم"، فدعوته، فلما جاء أشار إلي النبي ﷺ أن تباعدي، فجاء فجلس إلى النبي ﷺ فجعل رسول اللَّه ﷺ يقول له: "ولون عثمان يتغير" (٢).حضرت ابو سھلہ رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک ساتھی ہو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : کیا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ فرماتی ہیں ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بلانا نہیں چاہتے۔ تو میں نے عرض کیا : کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : کہ میں علی رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پس میں نے ان کو بلوا دیا ۔ جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دور ہونے کے لیے اشارہ کیا۔ پس وہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کچھ فرماتے رہے اور حضرت عثمان کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ نے مجھے بتلایا : کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور تھے۔ تو ان کو کہا گیا : آپ رضی اللہ عنہ قتال کیوں نہیں کرتے ؟ ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م کا گما ن تھا کہ وہ اسی مجلس میں وعدہ ہو اتھا۔