مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
٣٤١٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن سالم قال: جاء أهل نجران إلى علي فقالوا: يا أمير المؤمنين كلتابك بيدك، وشفاعتك بلسانك، أخرجنا عمر من أرضنا فأرددنا إليها، فقال لهم علي: ويحكم إن عمر كان رشيد الأمر، ولا أغير شيئًا صنعه عمر (١).حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل نجران نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی : اے امیرالمؤمنین ! آپ رضی اللہ عنہ کا اپنا ہاتھ سے حکم لکھنا اور اپنی زبان سے شفاعت کرنا احسان ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ہماری زمین سے نکال دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہمیں واپس وہاں بھیج دیں۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ا سے فرمایا : تمہارے لیے ہلاکت ہو یقینا حضرت عمر رضی اللہ عنہ صحیح معاملہ پر قائم تھے۔ اور میں ہرگز اس چیز کو نہیں بدلوں گا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا۔ حضرت اعمش رحمہ اللہ نے فرمایا : پس وہ لوگ کہتے تھے۔ اگر ان کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھوڑی سی بھی ناراضگی ہوتی تو وہ اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھاتے۔