حدیث نمبر: 34170
٣٤١٧٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك (الدار) (١) قال: وكان خازن عمر على الطعام قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر فجاء رجل إلى قبر النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل في المنام فقيل له: إئت عمر فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مسقيون، وقل له: عليك الكيس! عليك الكيس فأتى عمر فأخبره فبكى عمر، ثم قال: يا رب لا (آلو) (٢) إلا ما عجزت عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک الدار رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شعبہ طعام میں خزانچی تھے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے پس ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر حاضر ہو کر یوں کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اپنی امت کے لیے پانی طلب کیجئے وہ ہلاک ہوگئی ہے ! تو حضور ﷺ اس آدمی کو خواب میں نظر آئے اور اس سے کہا : عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ لوگ سیراب ہونے کی جگہ میں ہیں، اور اس سے کہو : تم پر دانشمندی لازم ہے۔ تم پر دانشمندی لازم ہے ۔ پس وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس خواب کی خبر دی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر فرمایا : اے میرے پروردگار ! کوئی کوتاہی نہیں مگر میں اس سے عاجز آگیا۔

حواشی
(١) في [م]: بياض.
(٢) في [جـ]: (آلوا).
(٣) معلول، والصواب أنه مرسل، قال الخليلي في الإرشاد ١/ ٣١٦: (يقال إن أبا صالح سمع مالك الدار هذا الحديث والباقون أرسلوه)، ومالك الدار هو مالك بن عياض المدني مولى عمر، وثقه ابن حبان، وروى عنه جمع.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34170
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34170، ترقيم محمد عوامة 32665)