حدیث نمبر: 34165
٣٤١٦٥ - حدثنا أبو معاوية عن خلف بن حوشب عن أبي السفر قال: (رُؤي) (١) على علي برد كان يكثر لبسه، قال: فقيل له: إنك لتكثر لبس هذا البرد، فقال: إنه كسانيه خليلي (وصفيي) (٢) وصديقي (وخاصي) (٣) عمر، إن عمر ناصح اللَّه فنصحه اللَّه -ثم بكى (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو السفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اکثر ایک چادر پہنے دیکھا گیا تو ان سے پوچھا گیا ؟ بلاشبہ آپ رضی اللہ عنہاکثر یہ چادر پہنتے ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ میرے بہت قریبی ، مخلص اور خاص دوست عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پہنائی تھی۔ یقیناعمر رضی اللہ عنہ نے اللہ سے خالص توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ کو بھی قبول فرما لیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ رونے لگے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (رأى).
(٢) في [ب]: (وصفيتي).
(٣) في [أ، ب]: (خاصتي).
(٤) منقطع؛ أبو السفر لم يدرك عليًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34165، ترقيم محمد عوامة 32660)