حدیث نمبر: 34125
٣٤١٢٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن قال: قال رجل لعمر: يا خير الناس، فقال: إني لست بخير الناس، فقال: واللَّه ما رأيت (قط رجلًا) (١) خيرا منك، قال: ما رأيت أبا بكر؟ قال: لا، قال: لو قلت: نعم، لعاقبتك، قال: وقال عمر: (من بلهم) (٢) بيني وبين أبي بكر، يوم من أبي بكر خير من آل عمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یوں پکارا : اے لوگوں میں سے بہترین شخص ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا میں لوگوں میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں۔ پھر اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم میں نے تو کبھی بھی آپ رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص نہیں دیکھا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تو نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ؟ اس نے کہا : نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو کہتا : جی ہاں ! تو میں تجھے ضرور سزا دیتا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبکر کی زندگی کا ایک دن عمر کی ساری آل کے اعمال سے بہتر ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (رجلًا قط).
(٢) كذا في النسخ، وفي كنز العمال ١٢/ ٢٢٣: (لم فرقتم).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34125
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34125، ترقيم محمد عوامة 32620)