مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 3382
٣٣٨٢ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الرحمن بن عبيد عن أبيه قال: كنا نصلي مع النعمان؛ -يعني: ابن بشير- المغرب، فما يخرج (آخرنا) (١) حتى يبدأ بالعشاء (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عبید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت نعمان بن بشیر کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کرتے، ہمارا آخری آدمی ابھی مسجد سے باہر نہیں نکلتا تھا کہ عشاء کا وقت ہو جاتا تھا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (أحدنا).