مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 3381
٣٣٨١ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: (حدثنا) (٢) محمد بن عمرو قال: (حدثنا) (٣) عبد العزيز بن عمرو بن ضمرة عن رجل (من) (٤) جهينة قال: سألت رسول اللَّه ﷺ متى أصلي العشاء؟ قال: "إذا ملأ الليل بطن كل واد" (٥).مولانا محمد اویس سرور
ایک جہینی شخص فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میں عشاء کی نماز کب پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا کہ جب رات ہر وادی کے اندر تک پہنچ جائے تو اس وقت پڑھو۔
حواشی
(١) في [أ، د، ك]: (بشير).
(٢) في [ب، جـ، ك]: (نا).
(٣) في [س، ط، هـ]: (نا).
(٤) في [جـ]: (ابن).
(٥) مجهول؛ لحال عبد العزيز بن عمرو بن ضمرة، أخرجه أحمد (٢٣٠٩٥)، والبخاري في التاريخ ٦/ ٢٣، والطبراني في الأوسط (٣٩٧٥)، وأحمد بن منيع وابن أبي عمر في مسنديهما كما في إتحاف الخيرة (١٢٠٦).