مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 3367
٣٣٦٧ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن حبيب بن سالم عن النعمان بن بشير قال: (أنا) (١) من أعلم الناس أو كأعلم الناس بوقت صلاة رسول اللَّه ﷺ العشاء: كان يصليها بعد سقوط القمر ليلة الثانية من أول الشهر (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عشاء کی نماز کا سب سے زیادہ واقف ہوں، آپ عشاء کی نماز مہینے کے شروع میں دوسری رات کے چاند کے سقوط کے بعد عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [أ]: (نا).