حدیث نمبر: 33663
٣٣٦٦٣ - حدثنا أبو أسامة (قال: حدثنا) (١) حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: تزوج رئاب بن حذيفة بن سعيد بن سهم أمَ وائل ابنة (معمر) (٢) الجمحية، فولدت له ثلاثة، فتوفيت أمهم، فورثها بنوها رباعها وولاء مواليها (فخرج) (٣) بهم عمرو بن العاص (معه) (٤) إلى الشام فماتوا في طاعون عمواس، قال: فورثهم عمرو، وكان عصبتهم فلما رجع عمرو (جاء) (٥) بنو ⦗٣٧٥⦘ (معمر) (٦) (فخاصموه) (٧) في ولاء (أختهم) (٨) إلى عمر بن الخطاب فقال عمر: أقضي بينكم بما سمعت من رسول اللَّه ﷺ، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما أحرز الولد أو الوالد فهو لعصبته من كان"، قال: فقضى (لنا به) (٩) وكتب لنا كتابا، فيه (شهادة) (١٠) عبد الرحمن بن عوف وزيد بن ثابت وآخر، حتى إذا استخلف عبد الملك بن مروان (توفي) (١١) مولى (لها) (١٢) وترك ألفي دينار، فبلغني أن ذلك القضاء قد غير، (فخاصموا) (١٣) إلى هشام بن إسماعيل، (فرفعنا) (١٤) إلى عبد الملك فأتيناه (بكتاب) (١٥) عمر فقال: إن كنت لأرى أن هذا من القضاء الذي لا يشك فيه، وما كنت أرى أن أمر (١٦) المدينة بلغ هذا أن يشكوا في هذا القضاء، فقضى لنا (به) (١٧) فلم (نزل) (١٨) فيه بعد (١٩).
مولانا محمد اویس سرور

عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ رئاب بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بن سعید بن سہم نے امّ وائل بنت معمر جُمحیّہ سے نکاح کیا تو ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں فوت ہوگئی تو اس کے بیٹے اس کے مال کے وارث ہوئے اور اس کے موالی کی ولاء کے بھی، پھر عمرو بن العاص ان کو شام کی طرف لے گئے تو وہ طاعونِ عَمَواس میں مرگئے، کہتے ہیں کہ اس پر عمرو ان کے وارث ہوئے جو ان کے عصبہ تھے، جب عمرو واپس آئے تو معمر کے بیٹے آئے اور اپنی بہن کی ولاء میں جھگڑا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے ، حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان وہ فیصلہ کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مال لڑکا یا والد جمع کرلے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے جو بھی ہوں، کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے اس کا ہمارے لئے فیصلہ کردیا اور ہمارے لیے ایک تحریر لکھ دی جس میں عبد الرحمن بن عوف اور زید بن ثابت اور دوسرے حضرات کی گواہی تھی۔ یہاں تک کہ جب عبد الملک بن مروان خلیفہ بنا تو اس لڑکی کا ایک مولیٰ فوت ہوگیا، اور اس نے دو ہزار دینار چھوڑے، پس مجھے خبر پہنچی کہ وہ فیصلہ تبدیل کردیا گیا ، چناچہ وہ ہشام بن اسماعیل کی طرف جھگڑا لے کر گئے تو ہم نے یہ معاملہ عبد الملک کی طرف اٹھا یا اور اس کے پاس حضرت عمر کی تحریر لائے، اس نے کہا کہ میں تو اس کو ایسا فیصلہ سمجھتا ہوں جس میں شک نہیں کیا جاسکتا، اور میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اہل مدینہ کا معاملہ اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ وہ اس فیصلہ میں شک کریں، پس اس نے اس کے بارے میں ہمارے لیے فیصلہ کردیا اور ہم بعد میں اس فیصلے پر قائم رہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (يعمر).
(٣) في [م]: (فجرج).
(٤) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٥) في [أ، ب، هـ]: (جاءوا).
(٦) في [أ، ب، جـ، م]: (يعمر).
(٧) في [م]: (فجاصموه).
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (أخيهم).
(٩) في [أ، ب]: (لبابة).
(١٠) في [أ]: (بشهادة).
(١١) في [أ، ب]: (مات).
(١٢) في [أ، ب، جـ]: (لنا).
(١٣) في [هـ]: (فخاصموا).
(١٤) في [أ، ب]: (فدعا)، وفي [جـ]: (فدفعنا)، وفي [م]: (فرجعنا).
(١٥) في [أ، ب، جـ]: (كتاب).
(١٦) زاد في [هـ]: (أهل).
(١٧) في [أ، جـ، ط، هـ]: (فيه).
(١٨) في [ب]: (يزل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33663
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شعيب صدوق، أخرجه أحمد (١٨٣)، وأبو داود (٢٩١٧)، وابن ماجه (٢٧٣٢)، والنسائي في الكبرى (٦٣٤٨)، وابن عساكر ٦٢/ ٣٩٦، والفاكهي في أخبار مكة (٢٠٨١)، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ٦١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33663، ترقيم محمد عوامة 32171)