مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في بعض الورثة يقر بأخ أو بأخت: ما له؟ باب: اس وارث کا بیان جو بھائی یا بہن کا اقرار کرے ، کہ اس کو کیا ملے گا؟
٣٣٦٣٩ - حدثنا وكيع قال: إذا كانا أخوين، فادعى أحدهما أخا وأنكره الآخر قال: كان ابن أبي ليلى يقول: هي من ستة: للذي لم يدع ثلاثة، وللمدعي سهمان، (وللمدعى) (١) سهم.وکیع فرماتے ہیں کہ جب دو بھائی وارث ہوں اور ان میں سے ایک کسی آدمی کے بھائی ہونے کا اقرار کرلے اور دوسرا اس کا انکار کر دے ، اس کے بارے میں حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے تھے کہ یہ مسئلہ چھ حصّوں سے نکلے گا، جس آدمی نے نسب کا اقرار نہیں کیا اس کے لئے تین حصّے ہیں اور اس کا دعویٰ کرنے کے لئے دو حصّے ہیں اور جس کے لئے دعویٰ کیا گیا ہے ایک حصّہ ہے۔ کہتے ہیں کہ ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ چار حصّوں سے نکلے گا جس نے دعویٰ نہیں کیا اس کے لئے دو حصّے اور دعویٰ کرنے والے کے لئے ایک حصّہ اور جس کے لئے دعویٰ کیا گیا ہے اس کے لئے ایک حصّہ۔