مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في بعض الورثة يقر بأخ أو بأخت: ما له؟ باب: اس وارث کا بیان جو بھائی یا بہن کا اقرار کرے ، کہ اس کو کیا ملے گا؟
حدیث نمبر: 33634
٣٣٦٣٤ - حدثنا المحاربي عن الأعمش عن إبراهيم في الإخوة يدعى أحدهم الأخ وينكره الآخرون، قال: يدخل معهم بمنزلة (العبد) (١) يكون بين الإخوة (فيعتق) (٢) أحدهم نصيبه.مولانا محمد اویس سرور
اعمش روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے اس آدمیے بارے میں فرمایا جس کے بھائی ہونے کا اقرار چند بھائیوں میں سے ایک نے کیا ہو اور باقی اس کا انکار کردیں، کہ وہ بھائی ان کے ساتھ وراثت میں شریک ہوگا، جس طرح وہ غلام ہے جو چند بھائیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصّہ آزاد کر دے، فرماتے ہیں کہ حضرت عامر اور حکم اور ان کے ساتھی فرماتے تھے کہ وہ اس شخص کے حصّے میں داخل ہوگا جس نے اس کے نسب کا اقرار کیا ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عبد).
(٢) في [ب]: (ويعتق).