حدیث نمبر: 33576
٣٣٥٧٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال: أرسل إليَّ (العرس) (١) بن قيس الكندي فسألني عن أخوين نصرانيين ⦗٣٥٨⦘ أسلم (٢) أحدهما ومات الآخر، وترك مالًا، فقلت: كان معاوية يقول: (لو كان نصرانيًا ورثه) (٣)، فلم يزده الإسلام إلا شدة (٤).
مولانا محمد اویس سرور

میمون بن مہران کہتے ہیں کہ عُرس بن قیس کندی نے مجھ سے بذریعہ خط دو نصرانی بھائیوں کے بارے میں پوچھا جن میں سے ایک مسلمان ہوجائے اور دوسرا مرجائے اور مال چھوڑ جائے، میں نے کہا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر وہ بھائی نصرانی ہوتا تو وارث ہوتا اور اسلام نے اس میں شدت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا، عُرس بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس کی یہودیہ پھوپھی کے بارے میں ہم پر اس بات کا انکار فرما دیا اور ان کو اس کا وارث نہیں بنایا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (المعرس)، وفي [م]: بياض.
(٢) زيادة في [أ، ب]: (ومات).
(٣) بياض في: [م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33576
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33576، ترقيم محمد عوامة 32092)